G1TV helps you connect and share with the people in your life.

The First Pakistani TV Channel in Spain

Topic: !ہا&#1 578;ھ بھ&#17 40; حض&#16 08;ر کے او&#15 85; دا&#16 81;ھی بھ&#17 40; حض&#16 08;ر کی

Post Reply
Forum Home > General Discussion > !ہات&# 1726; بھی حضو&#1 585; کے اور داڑ&#1 726;ی بھی حضو&#1 585; کی

Mehr Adeeb Ahmed
Site Owner
Posts: 11

!ہاتھ بھی حضور کے اور داڑھی بھی حضور کی


ایک بادشاہ کا اصول تھاکہ جب بھی دربار میں کوئ کھیل تماشا یا کوئ گانا بجانا وغیرہ ہوتا تو وہ اپنی گود میں ایک رومال ڈال لیتا اور اپنے ہاتھوں کی انگلیان اپنی داڑھی میں مارتا رہتا۔کھیل ختم ہونے پر رومال لپیٹ کر رکھ دیا جاتا اور اگلے روز دربار لگنے پر رومال کھول کر دیکھا جاتا۔داڑھی کے جتنے بال رومال میں موجود ہوتے اتنی ہی اشرفیاں انعام کے طور پر تماشا دکھانے والے کو عطا کر دی جاتیں۔ایک دن ایک قوال وہاں آ نکلا۔اس نے خوب محفل سجائ۔ بادشاہ کو خوب مزہ آیا۔بادشاہ پر اس روز کچھ اتنا اثر ہوا کہ وہ اپنے آنسو نہ روک سکا۔اسی طرح باقی دنوں کی نسبت اس دن داڑھی میں اسکی انگلیاں بھی کافی تیز چلتی رہیں۔ قوال بھی یہ سوچ کر کہ" آج تو خوب بال گرینگے" کافی خوش اور خوب زور لگا رہا تھا۔بالآخر محفل اختتام کو پہنچی۔بادشاہ نے قوال کی خوب تعریف کرتے ہوئے کہاکہ"محافل تو اس نے بہت دیکھیں مگر ایسا لطف کبھی نہ آیا اور یہ کہقوال واقعی بڑے انعام و اکرام کا مستحق ہے۔" یہ کہتے ہوئے اس نے رومال حسب معمول لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیااور سونے چلا گیا۔باقی درباری بھی سونے چلے گئے۔اب بچا قوال تو مارے خوشی کے اسے نیند کب آتی ہے۔بادشاہ نے نہ صرف اتنی تعریفیں کیں بلکہ داڑھی میں ہاتھ بھی تو آج بہت تیز چل رہا تھا۔بہت سارے بال گرے ہونگے بس یہی سوچ سوچ کر ساری رات آنکھوں میں کٹ گئ مگر صبح ہے کہ ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔آخر خدا خدا کر کے صبح ہو ہی گئ۔دربار لگا قوال کی بلائ ہوئ۔قوال خوشی خوشی حاضر ہوا، رومال کھلا کیا دیکھتا ہے کہ ایک بال بھی نہیں۔درباری بھی حیران کہ ایسا تو پہلے کبھی نہ ہواتھا۔سبھی پریشان تھے کہ قوال بے چارہ تو مفت میں رات بھر زور لگاتا رہا اور بادشاہ تو اصول توڑنے والا نہ تھا۔ کیا بنے گا آخر قوال کا؟ بادشاہ بھی اس صورت حال سے کافی مغموم اور بالکل چپ سادھے بیٹھا تھا۔ہر طرف ہو کا عالم، خاموشی ہی خاموشی۔
ادھر قوال کافی دیر کھڑاالتجا بھری نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا مگر جیسے سبھی کو سانپ سونگ گیا ہو۔ قوال حالات بھانپ گیا اور ہمت کر کے خاموشی کو توڑتے ہوئے آخر کار بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا"حضور کیا حکم ہے میرے لیے؟" بادشاہ نے قوال کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا "تم جیسا بد بخت انسان ہم نے اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھا" قوال یہ سن کر جیسے سٹپٹا سا گیا۔ بولا"بندہ اگر جان کی امان پائے توکچھ عرض کرے"۔ " آج تمہیں اجازت ہے کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ بادشاہ نے سوالیہ انداز میں اجازت دیتے ہوئے کہا۔قوال بولا "حضور کا اصول تو اپنی جگہ درست۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔ "کچھ تاخیر کے بعد پھر کہنے لگا "اصل بات تو یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔ داڑھی بھی حضور کی اور ہاتھ بھی۔ ورنہ اگر۔۔۔۔۔۔ داڑھی ہوتی حضور کی اور ہاتھ ہوتے میرے تو ساری کی ساری گود میں ہوتی"
طاہر انجم خان

April 6, 2009 at 7:22 PM Flag Quote & Reply

You must login to post.

Join Free G1TV, make friends and live chat with friends

Google Translator

Share on Facebook

Share on Facebook

Newest Members

   

Send to a friend

Upload your Photos

   

Recent Video Blogs

No video yet. Record one!

Add your Videos

36 views - 0 comments
27 views - 0 comments
28 views - 0 comments
35 views - 0 comments

Join Forum and leave your comments

Recent Blog Entries

by Sanny | 1 comments

Recent Prayer Requests

  • idBtGvWAKWHEH

    TsUlcI <a href="http://lhucabretfsp.com/">lhucabretfsp</a>, [url=http://jtfssrkoslwn.com/]jtfssrkoslwn[/url], [link=http://gmcaergejimi.com/]gmcaergejimi[...

Super Share

Share on Facebook

To Contact Us